بھٹکل:3/ڈسمبر (ایس او نیوز)پینے کے پانی کے لئے عوام کتنی تکالیف جھیلتے ہیں ، کہاں کہاں تلاش کرتے ہیں ، کلومیٹر ، دو کلو میٹر تو جانے دیجئے 8-10کلومیٹر دور تک جاکرپینے کے لئے دو گھڑے پانی لانے کی کہانیاں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ حالات زمانہ انسان بھی ان درد بھری کہانیوں کو بھلاتے ہوئے قیمت پر خریدکر اپنی پیاس بجھا رہاہے ، لیکن غریب ، مزدور ، جائیں توکہاں جائیں۔ ان حالات کے لئے خود ہم ذمہ دار ہیں اس کا ہمیں شعور نہیں ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں ایک مرتبہ گھومیں تو دودھ وغیرہ آسانی سے مل جائیں گے لیکن پینے کا شفاف پانی ملنا محال ہے، اچھی قیمت دے کر بھی پانی کی بوتل خریدیں تو اس کی شفافیت کے تعلق سے رائے رقائم نہیں کیا جاسکتا، البتہ پاکیزہ بوتل کو دیکھ دیکھ کر پانی کی شفافیت پر بھروسہ کرتے ہوئے حالیہ پیاس بجھانے پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں۔ تو آخر شفاف پانی حاصل کریں تو کیسے کریں۔ آئیے ، ہم آپ کو لے چلتے ہیں بھٹکل کی نیو شمس اور شمس ہائی اسکول میں ، جہاں محمد بلال اور امان اللہ نامی طلبا نے اپنے سائنس ٹیچر پرشانت بھٹ کی رہنمائی میں ہماری مشکلات میں کچھ کمی کرتے ہوئے راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
دونوں طلبا نےاپنی پڑھائی کے ساتھ ایک سائنسی تجربہ کیا ہے ، جس سے ہوا میں موجود آبی ذرات کا ذخیرہ بنا کر اس سے شفاف و صحت مند پانی حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ مانا جاتاہے کہ بھارت جیسے ممالک اس طرح ہوا کے آبی ذرات سے شفاف پانی حاصل کرنا ممکن ہے، اور اس کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ طلبا کے تیار کردہ ماڈل نے تعلقہ سطح کے سائنسی نمائشی مقابلے میں عوام کی دلچسپی کا باعث بھی بنا ہے، جہاں انہوں نے باقاعدہ اپنے تجربہ کے ذریعے پانی کو حاصل کرکے پیش کیا ۔ اسکول کے سائنس ٹیچر پرشانت نے بتایا کہ طلبا میں موجود نئی نئی معلومات ، ان کی محنت اور تخلیقیت کا استعمال کرتے ہوئے ایسے جدید طریقوں کو اختیار کرکے عوام کو سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔پانی کے تکثیفی اصول کے مطابق طلبا کی طرف سے تیار کردہ ماڈل کئی ایک مسائل کو حل کیا جاسکتاہے۔
سائنسی تجربہ کا ماڈل کیسے کام کرتاہے؟
ہوا سے پانی کیسے تیار کیا جاتا ہے؟ ایسے سوال کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ ایک معمولی طالب علم بھی جانتاہے کہ ہوا میں آبی ذرات موجود ہیں۔ انہی آبی ذرات کو ونڈ ٹرابائن کے ذریعے ایک چیمبر میں ذخیرہ کیا جاتاہے، جہاں وہ حدت کی وجہ سے پانی کی شکل اختیار کرتاہے۔ اس کے بعد پانی کو پائپ کے ذریعے اوپر پمپ کیا جاتاہے۔ سائنسی ماہرین کے مطابق اس طرح جو پانی حاصل کرتاہے موجودہ پانی میں اپنی زیادہ شفافیت رکھنے کی بات کہتے ہیں۔ اسکول و کالج کی سطح پر طلبا کی مخفی صلاحیتوں کو اساتذہ کی رہنمائی میں اجا گر کرنے کی ایک بہترین مثال ہے، جس سے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے نئےنئے تجربات کی طرف انہیں لے جاسکتے ہیں ، مستقبل میں انہی میں سے کوئی جابر بن حیان، الہشیم ، خوازمی کا جانشین بھی ہوسکتاہے۔ انشاء اللہ ۔ طلبا کی ان کامیاب کوششوں پر شمس ہائی اسکول کی انتظامیہ کے عہدیداران، صدر مدرس، اساتذہ اور دیگر اداروں کے ذمہ داران نے مبارکبادی پیش کی ہے۔